

اکادمی ادبیات پاکستان ، پاکستانی زبانوں کے ادب کی ترویج و اشاعت اور پاکستانی اہل قلم کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والاایک قومی ادارہ ہے۔
اکادمی ادبیات پاکستان کا قیام وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے یکم جولائی 1976کو عمل میں آیا۔ 1978میں اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے اغراض و مقاصد طے کیے گئے ۔ اساسی اراکین کی حیثیت سے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ، جناب اے کے بروہی ، جناب حفیظ جالندھری، میاں سید رسول رسا، پروفیسر احمد علی ، جناب احمد ندیم قاسمی، جناب شریف کنجاہی اور ڈاکٹر نبی بخش خاں بلوچ کو نامزد کیا گیا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ، مجلس رفقائے اساسی کے پہلے صدر تھے۔ رہنمائی کےلیے ایک بورڈ آف گورنرز قائم کیا گیا۔
بعد ازاں عدالت ِ عظمیٰ کے ایک فیصلے پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں اکادمی کو ایک ماتحت ادارے کی حیثیت دے دی گئی تاہم ادارے کے بنیادی مقاصد پر موثر طریقے سے عمل درآمد کے پیش نظر، اس وقت کی انتظامی وزارت نے ضروری جانا کہ اکادمی کی خود مختار حیثیت بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں ایک ایکٹ تیار کیا گیا جسے قواعد وضوابط کی تکمیل کے بعد مارچ 2013 میں پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ایکٹ 2013 کے عنوان سے نافذ کیا گیا۔ یوں اکادمی کو ایک مرتبہ پھر خود مختار ادارے کی حیثیت دے دی گئی۔
اکادمی ایکٹ کے سیکشن 12کی رو سے اکادمی ادبیات پاکستان کی ذمے داریاں اور اغراض و مقاصد درج ذیل ہیں:

چیئرپرسن
ڈاکٹر نجیبہ عارف اکادمی ادبیات پاکستان کی موجودہ چیئرپرسن ہیں۔ وہ ایک معروف ادیبہ، نقاد اور ماہر تعلیم ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل
سلطان محمد نواز ناصر اکادمی کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ انہوں نے نومبر 2023 میں یہ عہدہ سنبھالا۔